اورنگزیب یوسفزئی دسمبر: ۲۰۱۳


سلسلہ وار موضوعاتی تراجم کی قسط نمبر4


مساجداللہ


سورۃ البقرۃ – آیت ۲/۱۱۴ :

 

قرآنِ عظیم کے مقدس متن کے اسلوبِ تحریر کو کلاسیکل ادب کا ایک شہ پارہ قرار دیتے ہوئے، جو کہ اب ایک تحقیق سے ثابت شدہ امر ہے اور صاحبِ کلام کی ذاتِ عالی کے شایانِ شان ہے ، قرآن کے موضوعاتی تراجم کے ایک سلسے کی اس عاجز نے ، روز مرہ زندگی میں درپیش نظریاتی مسائل کے حل کے واحد مقصد کے پیش نظر، ابتدا کی ہے۔ صرف موضوعات [themes] پر زور دینے کا سبب اس مہم کے حجم کو سکیڑ کر مختصر کر دینا، اور ایک کامل ترجمے کی خوفزدہ کر دینے والی طویل مہم سے گریز اختیار کرناہے، جس کیے لیے مطلوبہ قابلیت اور فراغت یہ عاجز اپنے تئیں میسر نہیں پاتا۔
پس تراجم کی یہ زیرِ نظر سیریز قرآنی عبارتوں میں قدم قدم پر موجود تشبیہات، استعارات، محاورات، ضرب الامثال اور مجازی معانی کو پیش نظر رکھتی ہے ۔ اور آپ دیکھیں کے کہ ہر قابلِ غور لفظ یا اصطلاح کو پہلے بریکٹ زدہ کر دیا گیا ہے اور پھر تحریر کے اواخر میں ان الفاظ و اصطلاحات کے معانی کی پوری وسعت تقریبا ایک درجن مستند ترین عربی لغات سے پیشِ خدمت کر دی گئی ہے ۔یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ تراجم میں ایک فیصد بھی ذاتی رائے یا عقیدہ یا نظریہ شامل نہیں ہے ۔ کام کا بنیادی معیار علم و عقل و شعور کو مقرر کیا گیا ہے تاکہ ہر قسم کی آلائشوں اور تعصبات سے پاک رہے ۔ اب تک چلے آ رہے لفظی تراجم کی مذمت اور ان کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ قرآن کی شکل کو یکسر بگاڑ دینے میں یہی لفظ بہ لفظ تراجم سب سے بڑا فتنہ ثابت ہو چکے ہیں۔
یہ عاجز خود بھی کوئی مسلک نہیں رکھتا اور نہ ہی مذہبی گروہ بندی پر یقین رکھتا ہے۔ اس عاجز کا تناظر صرف خالق اور اس کی مجموعی تخلیق ہے ، کائنات کے کاسمک مرحلے سے لے کر حیاتِ انسانی کے ترقی یافتہ ترین مرحلے تک ۔ اور تخلیقی کاروائیوں میں خالق کی کردار سازی کی ہدایات کا واحد ماخذ و منبع ، اس کی کتاب القرآن ۔ جس کی صحیح شکل کی پیروی انسان کو نسل در نسل اس کی متعین شدہ منزلِ مقصود کی جانب رواں دواں رکھتی ہے۔
تو آئیے متعلقہ تناظر کے اس بیان کے بعد موضوعِ زیرِ نظر پر کی گئی جدید ترین عقلی و علمی تحقیق پر نظر ڈالتے ہیں ۔
،۔،۔،۔،۔،۔،۔،

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّـهِ أَن يُذْكَرَ‌ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَ‌ابِهَا ۚ أُولَـٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَ‌ةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١١٤﴾

اور کون ان لوگوں سے زیادہ ناحق پر ہوگا جنہوں نے یہ رکاوٹ ڈالی اور ممنوع قرار دیا کہ اللہ کی اطاعت کے مراکز [مَسَاجِدَ اللَّـهِ ]میں اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ [اسْمُهُ ]کو پیشِ نظر رکھا جائے اور ان سے سبق و نصیحت لی جائے [يُذْكَر]؛ بلکہ انہوں نے تو اللہ کے احکامات کا حلیہ بگاڑنے کی کوششیں کیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو یہ حق ہی نہیں کہ وہ ان مراکز میں داخل ہوں سوائے اس کے کہ خوفزدہ اور عاجزی کی حالت میں آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگیاں اس دنیا میں بھی خزاں رسیدہ رہینگی اور آخرت میں بھی ان کے حصے میں ایک عظیم سزا ہوگی ۔
مساجد : سجدہ ؛ اطاعت میں مکمل سپردگی ۔ مساجد: وہ مراکز جہاں اطاعتِ الٰہی کی کامل تنفیذ کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔
اسم: سمو: بلند، رفیع الشان، عالی صفات، نمایاں اور ارفع مقام ؛ اسم : وہ نشان یا وصف جس سے بلندی اور شان ظاہر ہوتی ہے۔ sign or attribute for distinction.
ذکر: یاد دہانی، پیشِ نظر رکھنا، نصیحت، نصیحت لینا، یاد رکھنا ، شرف و مجد ۔